Thursday, August 13, 2026

اے انسان

 آیت ٦ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ ۔ ” اے انسان تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اپنے ربّ کریم کے بارے میں۔ “- ظاہر ہے یہ کام شیطان لعین ہی کرتا ہے۔ وہی انسان کو اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھوکے میں ڈالتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید میں بنی نوع انسان کو باربار خبردار کیا گیا ہے ‘ مثلاً سورة لقمان میں فرمایا : وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَـرُوْرُ ۔ کہ وہ بڑا دھوکے باز تم لوگوں کو اللہ کے بارے میں کہیں دھوکے میں مبتلا نہ کر دے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام تر تنبیہات کے باوجود اکثرانسان شیطان کے اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے شیطان مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف چالیں اورحربے آزماتا ہے۔ مثلاً ایک دیندار شخص کو اہم فرائض سے ہٹانے کے لیے وہ نوافل اور ذکر و اذکار کا پرکشش پیکج پیش کرسکتا ہے کہ تم اقامت دین اور دوسرے فرائض دینی کا خیال چھوڑو اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے راتوں کو جاگنے اور تہجد کی پابندی پر توجہ دو ۔ عام مسلمانوں کے لیے اس کی بہت ہی تیر بہدف چال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غفورٌ رحیم ہے ‘ وہ کوئی خوردہ گیر نہیں کہ اپنے مومن بندوں کو چھوٹی چھوٹی خطائوں پر پکڑے۔ وہ تو بہت بڑے بڑے گناہگاروں کو بھی معاف کردیتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں بےعملی کی سب سے بڑی وجہ شیطان کی یہی چال ہے ‘ بلکہ اس دلیل کے سہارے اکثر لوگ گناہوں کے بارے میں حیران کن حد تک جری اور بےباک ہوجاتے ہیں۔ اس لحاظ سے آیت زیر مطالعہ ہم میں سے ہر ایک کو دعوت فکر دے رہی ہے کہ اے اللہ کے بندے تمہاری بےعملی کی وجہ کہیں یہ تو نہیں ہے کہ شیطان نے تمہیں اللہ تعالیٰ کی شان غفاری کے نام پر دھوکے میں مبتلا کردیا ہے ؟

آیت ٧ الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوّٰٹکَ فَعَدَلَکَ ۔ ” جس نے تمہیں تخلیق کیا ‘ پھر تمہارے نوک پلک سنوارے ‘ پھر تمہارے اندر اعتدال پیدا کیا۔ “- اللہ تعالیٰ نے تمہارے قوائے جسمانی اور قوائے نفسیاتی میں ہر طرح سے اعتدال اور توازن پیدا کیا ہے۔ گویا تمہاری تخلیق اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کی مظہر ہے۔ تمہاری تخلیق کے اندر توازن اور خوبصورتی کا یہ پہلو گویا اس حقیقت پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں عدل و اعتدال کو پسند فرماتا ہے اور یہ کہ وہ تم انسانوں کے ساتھ آخرت میں بھی عدل و انصاف کا معاملہ فرمائے گا ‘ تاکہ گناہگاروں کو قرار واقعی سزا مل سکے اور نیکوکار اپنی نیکیوں کا پورا پورا بدلہ پائیں ۔ تمہاری مبنی براعتدال تخلیق و ترکیب کا تقاضا تو یہ تھا کہ تمہارے خیالات و اعمال بھی اعتدال اور توازن کا مظہر ہوتے ‘ مگر تم لوگ ہو کہ اپنے خالق کے بارے میں ہی دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہو۔ تم اس کی شان غفاری کو تو بہت اہتمام سے یاد رکھتے ہو جبکہ اس کی صفت عدل سمیت بہت سی دوسری صفات کو بالکل ہی بھولے ہوئے ہو ۔ تمہاری یہ بےاعتدالی تمہارے اس خالق کو بالکل پسند نہیں ہے جس نے تمہاری تخلیق کا خمیر ہی اعتدال سے اٹھایا ہے۔

آیت ٨ فِیْٓ اَیِّ صُوْرَۃٍ مَّا شَآئَ رَکَّبَکَ ۔ ” پھر جس شکل میں اس نے چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔ “- اللہ تعالیٰ ہر انسان کی شکل اور اس کے مختلف اعضاء اپنی مرضی و مشیت کے مطابق بناتا ہے۔ ظاہر ہے اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں۔ اس موضوع کی مناسبت سے مجھے حضرت حسان بن ثابت (رض) کے نعتیہ اشعار یاد آگئے ہیں۔ آپ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں فرماتے ہیں :- وَاَحْسَنُ مِنْکَ لَمْ تَرَ قَطُّ عَیْنِیْ- وَاَجْمَلُ مِنْکَ لَمْ تَلِدِ النِّسَائُ- خُلِقْتَ مُبَرَّئً ‘ ا مِنْ کُلِّ عَیْبٍ- کَاَنَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَائُ- ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ حسین میری آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر جمیل عورتوں نے جنا ہی نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر عیب اور نقص سے مبراپیدا ہوئے ہیں۔ گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح پیدا ہوئے ہیں جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود چاہا۔ “

No comments:

Post a Comment