آیت ٢٤ فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖٓ ۔ ” تو انسان ذرا اپنے کھانے ہی کو دیکھ لے۔ “- اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں اگر پھر بھی کسی کو شک ہو تو وہ اپنی غذا پر ہی غور کرلے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کرنے کے بعد کس کس انداز میں اس کی غذا کا انتظام کیا ہے ۔
آیت ۲۵ اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ۔ ” کہ ہم نے خوب پانی برسایا ۔ “-
اس سے مراد بارش ہے ۔ سورج کی حرارت سے بے حد و حساب مقدار میں سمندروں سے پانی بھاپ بنا کر اٹھایا جاتا ہے ، پھر اس سے کثیف بادل بنتے ہیں ، پھر ہوائیں ان کو لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلاتی ہیں ، پھر عالم بالا کی ٹھنڈک سے وہ بھاپیں از سرنو پانی کی شکل اختیار کرتی اور ہر علاقے میں ایک خاص حساب سے برستی ہیں ، پھر وہ پانی براہ راست بھی زمین پر برستا ہے ، زیر زمین کنوؤں اور چشموں کی شکل بھی اختیار کرتا ہے ، دریاؤں اور ندی نالوں کی شکل میں بھی بہتا ہے ، اور پہاڑوں پر برف کی شکل میں جم کر پھر پگھلتا ہے اور بارش کے موسم کے سوا دوسرے موسموں میں بھی دریاؤں کے اندر رواں ہوتا ہے ۔ کیا یہ سارے انتظامات انسان نے خود کیے ہیں؟ اس کا خالق اس کی رزق رسانی کے لیے یہ انتظام نہ کرتا تو کیا انسان زمین پر جی سکتا تھا ؟
آیت ٢٦ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ۔ ” پھر ہم نے زمین کو پھاڑا جیسے کہ وہ پھٹتی ہے۔ “- زمین پھٹتی ہے اور اس میں سے کو نپلیں برآمد ہوتی ہیں ‘ جو رفتہ رفتہ پورے پودے بلکہ تناور درخت کی صورت اختیار کرلیتی ہیں۔
بارش کا زمین پر اثر : یعنی انسان اگر اپنے کھانے کی چیزوں میں ہی غور کرلیتا تو اسے اپنے پروردگار کی ناشکری کی کبھی جرأت نہ ہوسکتی تھی۔ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ زمین میں سطح زمین سے تھوڑا سا نیچے بیج اتار دے۔ بس اس کے بعد اس کا کام ختم ہوجاتا ہے۔ خواہ انسان یہ کام زمین میں ہل چلا کر کرے یا کسی دوسرے ذریعہ سے کرے۔ زمین پر بارش برسانا اللہ کا کام ہے۔ یہی بارش کا پانی کبھی ندی نالوں، دریاؤں اور نہروں سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی چشموں اور کنووں سے۔ بہرحال وہ بارش ہی کا جمع شدہ پانی ہوتا ہے۔ زمین میں بالیدگی :۔ پانی اور زمین کی اوپر کی سطح جب مل جاتے ہیں تو ایسی مٹی میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ بیج کو کھول دیتی ہے۔ اس مردہ اور بےجان بیج میں زندگی کی رمق پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کونپل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ بیج میں درخت کی خصوصیات :۔ پھر اس نرم و نازک کونپل میں، جو ہوا کے ایک معمولی سے جھونکے کو بھی برداشت نہیں کرسکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے بالیدگی کی اتنی قوت بھر دی ہے کہ وہ کونپل دو تین دن بعد اوپر سے ملی ہوئی زمین کو پھاڑ کر زمین کے اندر سے یوں باہر نکل آتی ہے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے باہر نکل آتا ہے۔ پھر یہی بیج آہستہ آہستہ مکمل پودا یا تناور درخت بن جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ زمین میں بالیدگی کی استعداد نہ رکھتا یا بیج میں وہ تمام خصوصیات نہ رکھتا جو اس کے پودے یا درخت میں تھیں ، یا بارش ہی نہ برساتا تو کیا انسان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ ہے جس سے وہ اپنی خوراک حاصل کرسکتا ؟
آیت ٣٢ مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ ” ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔ “
ہر طرح کی نباتات اور پھل :۔ پھر ہم نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ انسان کے لیے حیات بخش اشیاء اگا دیں بلکہ اس پر مزید احسان یہ کیا کہ ایسی اشیاء پیدا کیں جو حیات بخش ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار لذیذ اور مزیدار بھی تھیں تاکہ انسان ایک ہی طرح کی خوراک سے اکتا نہ جائے۔ اس کے لیے طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں اگائیں۔ پھر ایسے پودے بھی اگائے جن سے انسان روغن حاصل کرسکے اور ایسے انواع و اقسام کے پھل بھی جن کے کھانے سے اسے لذت و سرور بھی حاصل ہو۔ پھر اس کے لیے مویشی پیدا کیے جن سے وہ گوشت، دودھ اور کئی دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ پھر ہر پودے اور درخت سے حاصل ہونے والی غذا کا بہترین حصہ تو انسان کی خوراک بنا اور جو حصہ اس کے حساب سے ناکارہ تھا وہ اس کے مویشیوں کی خوراک کے کام آیا۔ اب دیکھیے غلوں اور درختوں کے پھلوں کے پکنے میں زمین، سمندر، سورج، ہوائیں، چاند کی چاندنی اور کئی دوسری اشیاء اپنا اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں تو تب جاکر انسان کو کھانے کو خوراک ملتی ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کے حکم کے مطابق اپنے اپنے فرائض بجا لا رہی ہیں۔ پھر بھی انسان ایسا ناشکرا واقع ہوا ہے کہ اپنے پروردگار کے منہ کو آنے لگتا ہے اور انسان اس روزی کے سلسلے میں اللہ کا اس قدر محتاج ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ کے لیے بارش برسانا ہی روک لے تو انسان اور اس کے علاوہ زمین پر بسنے والی تمام جاندار مخلوق کا عرصہ حیات تنگ ہوجائے
.jpg)
No comments:
Post a Comment