۔ (ان الابرار لفی نعیم…:) فرشتوں کے تیار کردہ اعمال ناموں کا نتیجہ یہ ہے کہ نیک لوگ نعمت میں اور نافرمان بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے۔” الابرار “ ” بر “ کی جمع ہے، وہ شخص جس میں ” بر “ (نیکی ) پائی جائے۔ نیکی کیا ہے اور نیک کون ہے اس کی تفصیل سورة بقرہ کی آیت (١٧٧) یعنی ” آیت بر “ میں ملاحظہ فرمائیں۔ (الفجار)“ فاجر“ کی جمع ہے، یہاں مراد کافرہیں، کیونکہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔
۔ (یصلونھا یوم الذین…:)” بغآئبین “ پر باء نفی کی تاکید کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ” کبھی غائب ہونے والے نہیں۔ “ کیا گیا ہے۔ فاجر لوگ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، کبھی اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگرچہ وہ قیامت کے دن جہنم میں داخل ہوں گے مگر اس سے پہلے قبر میں بھی وہ آگ سے غائب نہیں ہیں ، جیسا کہ آل فرعون کے متعلق فرمایا :(وحاق بال فرعون سوء العذاب ، النار یعرضون علیھا غدواً وغشیاً ویوم تقوم الساعۃ ادخلوا ال فرعون اشد العذاب) (المومن : ٣٥، ٣٦)” اور آل فرعون کو بدترین عذاب نے گھیر لیا جو آگ ہے۔ اس پر صبح اور شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی (کہا جائے گا کہ) آل فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔ “
۔ (وما ادرک ما یوم الدین…:) قیامت کی عظمت و اہمیت ذہن میں بٹھانے کے لئے سوال اور پھر تکرار سوال ہے۔ یعنی آپ خواہ کتنا ہی سوچیں اور غور کریں اس ہولناک دن کی پوری کیفیت کبھی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ مختصراً یہ سمجھ لو کہ اس دن جتنے رشتے ناطے ہیں سب ختم ہوجائیں گے۔ ہر ایک کو بس اپنی ہی پڑی ہوگی۔ کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ نہ ہی اللہ کے اذن کے بغیر کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا۔
آیت١٩ یَوْمَ لَا تَمْلِکُ نَفْسٌ لِّـنَفْسٍ شَیْئًاط وَالْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰہِ ۔ ” جس روز کسی جان کو کسی دوسری جان کے لیے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا ‘ اور امر ُ کل کا کل اس دن اللہ ہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ “- اس دن سرمحشر پکارا جائے گا : لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ط (المومن ١٦) کہ اے نسل انسانی کے لوگو ‘ دیکھو آج حکومت ‘ اختیار اوراقتدارکس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور اس سوال کا جواب بھی پھر خود ہی دیا جائے گا : لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (المومن : ١٦) یعنی آج کے دن اختیار کل کا کل اللہ ہی کے پاس ہے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔ اس دن انسانوں کی اکثریت کو بےبسی اور نفسانفسی کی جس کیفیت کا سامنا ہوگا ‘ سورة البقرۃ میں اس کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : وَاتَّقُوْا یَوْماً لاَّ تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلاَ یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلاَ یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ ” اور ڈرو اس دن سے کہ جس دن کام نہ آسکے گی کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ بھی اور نہ کسی سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ کسی سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد ہی مل سکے گی۔
.jpg)
No comments:
Post a Comment