آیت ١٩ اِنَّہٗ لَـقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ۔ ” یقینا یہ (قرآن) ایک بہت باعزت پیغامبر کا قول ہے۔ “- یہاں ” رَسُوْلٍ کَرِیْم “ سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ یہ آیت قبل ازیں سورة الحاقہ میں بھی (بطور آیت ٤٠) آچکی ہے اور وہاں ” رَسُوْلٍ کَرِیْم “ سے مراد محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ سورة الحج (آیت ٧٥) میں فرمایا گیا ہے : اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِط ” اللہ ُ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی “۔ چناچہ فرشتوں میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ُ چنا اور انسانوں میں سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور یوں ان دو ہستیوں کے ذریعے سے ” رسالت “ کا سلسلہ تکمیل پذیر ہوا۔ زیر مطالعہ آیات میں رسول کریم بشر (محمد ٌرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور رسول کریم ملک (حضرت جبرائیل ) کی ملاقات کا ذکر بھی آ رہا ہے کہ رسالت کی ان دو کڑیوں کے ملنے کا ثبوت فراہم ہوجائے۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة النجم میں بھی آچکا ہے۔
آیت ٢٠ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ ۔ ” جو (جبرائیل) بہت قوت والا ہے ‘ صاحب ِعرش کے نزدیک بلند مرتبہ ہے۔ “- یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے خاص مقربین میں سے ہیں۔
آیت ٢١ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۔ ” جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔ “- حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تمام فرشتوں کے سردار ہیں۔ اس لحاظ سے آپ (علیہ السلام) تمام فرشتوں کے مطاع ہیں یعنی تمام فرشتے آپ (علیہ السلام) کی اطاعت کرتے ہیں۔ اورآپ (علیہ السلام) امانت دارایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام جوں کا توں انبیاء ورسل تک پہنچاتے رہے ہیں۔

No comments:
Post a Comment