Tuesday, August 4, 2026

دنیا کی زندگی ، اتنی قلیل

آیت ٤٦ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰٹہَا ۔ ” جس دن وہ اسے دیکھیں گے (انہیں یوں لگے گا ) گویا وہ نہیں رہے (دنیا میں) مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح ۔ “- قیامت کے دن انسان جب اپنی دنیوی زندگی کو یاد کرے گا تو اسے اپنی پوری زندگی ایسے نظر آئے گی جیسے وہ ایک دن کی بھی صرف چند گھڑیاں دنیا میں رہا تھا۔

 گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی ۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی گزار کر یہاں آتے۔

No comments:

Post a Comment