Thursday, August 13, 2026

قرآن کریم

 آیت ٢٧ اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ ” نہیں ہے یہ مگر تمام جہان والوں کے لیے ایک یاد دہانی۔ “- قرآن مجید اس مفہوم میں ذکر یعنی یاد دہانی ہے کہ یہ انسان کی فطرت میں پہلے سے موجود حقائق کی یاد تازہ کرتا ہے۔ دراصل انسان فطری طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور توحید کے تصور سے آشنا ہے ‘ مگر دنیا میں رہتے ہوئے اگر انسان کی فطرت پرغفلت کے پردے پڑجائیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ سورة الحشر کی آیت ١٩ میں اس حوالے سے ہم اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پڑھ چکے ہیں : وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹھُمْ اَنْفُسَھُمْ ط کہ اے اہل ایمان تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کردیا۔ بہرحال اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان باللہ سے متعلق وہ حقائق جو ہرانسان کی فطرت میں مضمر ہیں پس ِپردہ چلے جاتے ہیں۔ چناچہ قرآنی تعلیمات انسانی فطرت میں موجود ان تمام حقائق کو خفتہ حالت سے نکال کر پھر سے فعال کرنے میں اس کی مدد کرتی ہیں۔

آیت ٢٨ لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَ ۔ ” ہر اس شخص کے لیے جو تم میں سے سیدھے راستے پر چلنا چاہے۔ “- یعنی قرآن ہر اس شخص کے لیے یاد دہانی ہے جو ہدایت کا طالب ہو اور پورے خلوص سے چاہتا ہو کہ وہ گمراہی سے نکل کر ہدایت کے راستے پر آجائے۔

No comments:

Post a Comment