آیت ٣٣ فَاِذَا جَآئَ تِ الصَّآخَّۃُ ۔ ” تو جب وہ آجائے گی کان پھوڑنے والی (آواز) ۔ “ - یعنی جب قیامت برپا کرنے کے لیے صور میں پھونکا جائے گا تو اس کی آواز سے کان پھٹ جائیں گے۔ اس آیت کی مشابہت سورة النازعات کی اس آیت سے ہے : فَاِذَا جَآئَ تِ الطَّآمَّۃُ الْکُبْرٰی ۔ ” پھر جب وہ آجائے گا بڑا ہنگامہ۔ “
یوم یفر المرء من اخیہ…: اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن آدمی کے ان لوگوں سے بھگانے کا ذکر فرمایا جن سے محبت ہوتی ہے اور ترتیب میں محبت کے درجات کو محلوظ رکھا، پہلے اس کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ کم محبت ہوتی ہے، بڑھتے بڑھتے آخر میں بیٹوں کا ذکر فرمایا جن کے ساتھ مقدم الذکر تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (التسہیل) جب اپنے پیاروں سے بھاگے گا تو دوسروں کا کیا ذکر ؟ -
بھاگنے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ان عزیزوں کو ، جو دنیا میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے ، مصیبت میں مبتلا دیکھ کر بجائے اس کے ان کی مدد کو دوڑے ، الٹا ان سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اسے مدد کے لیے پکار نہ بیٹھیں ۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا میں خدا سے بے خوف اور آخرت سے غافل ہو کر جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی خاطر گناہ اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے رہے ، اس کے برے نتائج سامنے آتے دیکھ کر ان میں سے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا کہ کہیں وہ اپنی گمراہیوں اور گناہ گاریوں کی ذمہ داری اس پر نہ ڈالنے لگے ۔ بھائی کو بھائی سے ، اولاد کو ماں باپ سے ، شوہر کو بیوی سے ، اور ماں باپ کو اولاد سے خطرہ ہو گا کہ یہ کم بخت اب ہمارے خلاف مقدمے کے گواہ بننے والے ہیں
آیت ٣٧ لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْہُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ ۔ ” اس دن ان میں سے ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے (ہر ایک سے) بےپروا کر دے گی۔ “- اس دن ہر انسان نفسا نفسی کی کیفیت میں ہوگا۔ ہرانسان کو اپنی پریشانی کی وجہ سے اپنے عزیز ترین رشتوں سمیت کسی دوسرے کی کوئی پروا نہیں ہوگی۔

No comments:
Post a Comment