Wednesday, August 19, 2026

جب قیامت برپا ہوگی

آیت ١ اِذَا السَّمَآئُ انْشَقَّتْ ۔ ” جب آسمان پھٹ جائے گا۔ “- نوٹ کیجیے ان تمام سورتوں کا بنیادی موضوع ” تذکیر آخرت “ ہے۔ زمین مردے اگل دے گی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا وہ اپنے رب کے حکم پر کاربند ہونے کے لیے اپنے کان لگائے ہوئے ہو گا پھٹنے کا حکم پاتے ہی پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیگا اسے بھی چاہیے کہ امر اللہ بجا لائے اس لیے کہ یہ اس اللہ کا حکم ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا جس سے بڑا اور کوئی نہیں جو سب پر غالب ہے اس پر غالب کوئی نہیں ، ہر چیز اس کے سامنے پست و لاچار ہے بےبس و مجبور ہے اور زمین پھیلا دی جائیگی بچھا دی جائیگی اور کشادہ کر دی جائیگی ۔

آیت ٢ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گا اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- اَذِنَتْ لِرَبِّہَا کا لفظی ترجمہ یوں ہوگا کہ وہ اپنے رب کے حکم پر کان لگائے ہوئے ہے اور جو بات کان لگا کر سنی جائے اس کے مطابق عمل بھی کیا جاتا ہے۔ اَذِنَتْ کا معنی اِسْتَمَعَتْ وَاِنْقَادَتْ کیا گیا ہے۔ یعنی اس نے غور سے سنا اور تعمیل کی۔ حُقَّتْ یہاں مجہول ہے حَقَّ یَحِقُّ سے۔ یعنی وہ اسی لائق ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ بےچون و چرا اپنے خالق کے حکم پر سرتسلیم خم کرے۔

 زمین کو کھینچ کر لمبا کرنے کا مفہوم :۔ مُدَّتْ ۔ مَدَّ بمعنی کسی چیز کو لمبائی میں کھینچ کر پھیلانا اور اسے لمبا کردینا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سایوں کو یا بادلوں کو لمبا کرتا اور پھیلا دیتا ہے واضح رہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمین کو کھینچ کر چپٹی بنادے گا۔ زمین کو اللہ نے پہلے ہی پھیلا دیا اور لمبا کردیا ہے۔ اس دن صرف یہ ہوگا کہ سارے سمندر خشک کرکے زمین میں شامل کردیے جائیں گے جس سے زمین کا رقبہ چار گنا ہوجائے گا پھر پہاڑوں کو زمین بوس کردیا جائے گا اس کی اونچی اور نیچی سب جگہیں برابر کردی جائیں گی۔ اس طرح اسی زمین کا رقبہ اتنا زیادہ ہوجائے گا کہ اسی زمین پر سیدنا آدم (علیہ السلام) سے لے کے قیامت تک پیدا ہونے والے انسانوں اور قیامت تک جنوں کی تمام نسل کو یکجا اکٹھا کردیا جائے گا۔ یہی زمین میدان محشر بن جائے گی ۔ 

آیت ٤ وَاَلْقَتْ مَا فِیْہَا وَتَخَلَّتْ ۔ ” اور وہ نکال باہر کرے گی جو کچھ اس کے اندر تھا اور خالی ہوجائے گی۔ “- سورة الزلزال میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے : وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَھَا ۔ ” اور جب زمین اپنے سارے بوجھ نکال کر باہر پھینک دے گی “۔ قیامت کے دن زمین اپنے اندر مدفون تمام انسانوں کے اجسام اور ان کے تمام اجزاء کو نکال کر باہرکرے گی ۔ اس کے علاوہ بھی زمین میں جو کچھ معدنیات اور خزانے مخفی ہیں وہ قیامت کے دن نکال کر باہر پھینک دے گی۔

آیت ٥ وَاَذِنَتْ لِرَبِّہَا وَحُقَّتْ ۔ ” اور وہ بھی اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اسے یہی زیب دیتا ہے۔ “- جس طرح اطاعت وانقیاد کا مظاہرہ آسمان کرے گا ‘ اسی طرح زمین بھی حکم الٰہی بجا لائے گی۔

No comments:

Post a Comment