Wednesday, August 19, 2026

ناپ تول میں کمی

 آیت ١ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ ۔ ” ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔ “- وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے ۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

 ڈنڈی مارنے کی مختلف صورتیں :۔ ناپ کر اپنا حق پورا لینا کوئی جرم کی بات نہیں۔ یہ جرم صرف اس وقت بنتا ہے جب اپنا حق تو پورا لیا جائے اور دوسروں کو کم دیا جائے۔ پھر اس جرم میں کمی بیشی کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی اپنا حق بھی کم لے اور دوسروں کو بھی کم دے۔ بالفاظ دیگر اس کا پیمانہ یا باٹ ہی چھوٹا ہو اسی سے وہ لاتا بھی ہو اوردیتا بھی ہو اور ڈنڈی بھی نہ مارتا ہو۔ اس صورت میں بھی یہ جرم ہے مگر جرم کی شدت کم ہوجاتی ہے۔ دوسری یہ کہ آدمی لیتے وقت پورا یا زیادہ لے اور دیتے وقت کم دے۔ اس صورت میں جرم دگنا بلکہ تگنا ہوجاتا ہے۔ لین دین کی اصل بنیاد عدل ہے یعنی پورا پورا دو ۔ اور قرآن کریم میں بیشمار مقامات پر اس کی سخت تاکید آئی ہے کہ جب تولو تو سیدھی ڈنڈی سے تولو اور اور کسی کو اس کا حق کم نہ دو ۔ پورا یا زیادہ لینا اور دوسروں کو کم دینا اتنا بڑا جرم ہے 

ان آیتوں میں اُن لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے جو دُوسروں سے اپنا حق وصول کرنے میں تو بڑی سرگرمی دِکھاتے ہیں، لیکن جب دُوسروں کا حق دینے کا وقت آتا ہے تو ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ وعید صرف ناپ تول ہی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے حقوق کو شامل ہے، اور اس طرح ڈنڈی مارنے کو عربی میں ’’تطفیف‘‘ کہتے ہیں، اسی لئے اس سورت کا نام تطفیف ہے۔

No comments:

Post a Comment