۔(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ ہو گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً ) (الانشقاق : ٨، ٨) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): ٣٩٣٩)” جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا ۔ “ عائشہ (رض) نے عرض کی :” یا رسول اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا ؟ “ آپ نے فرمایا :” یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کئے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو یا۔ “- جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یدنواحدکم من ربہ حتی یضع کنفہ علیہ فیقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم و یقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم، فیقررہ ثم یقول انی سترت علیک فی الدنیا، فانا اغفرھا لک الیوم) (بخاری، الادب، باب ستر المومن علی نفسہ : ٦٠٨)” تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو ) ، پھر فرمائے گا :” تو نے یہ کام کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ اور فرمائے گا :” تو نے یہ یہ کام (بھی ) کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروا لے گا، پھر فرمائے گا :” میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمہیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں ۔ “ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے نانوے (٩٩) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہوجائیں گے جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ “ لکھا ہوگا۔ (دیکھیے ترمذی، الایمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ : ٢٦٣٩ و صحیحہ الالبانی) غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مرگیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ وغفر مادون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : ٣٨)” بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔ “ مشرک کے لئے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لئے نہ اس کے غضب سے بےخوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے
.jpg)
No comments:
Post a Comment