Tuesday, September 15, 2026

قیامت کا نقشہ

 آیت ٤٧ (وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً )- اب قیامت کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اس دن پہاڑ اپنی جگہ چھوڑدیں گے زمین کے تمام نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے اور پورا کرۂ ارض ایک صاف چٹیل میدان کی شکل اختیار کرلے گا۔- (وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا)- حضرت آدم سے لے کر آخری انسان تک پیدا ہونے والے نوع انسانی کے تمام افراد کو اس دن اکٹھا کرلیا جائے گا۔

 یہ قیامت کی ہولناکیاں اور بڑے بڑے واقعات کا بیان ہے۔ پہاڑوں کو چلائیں گے کا مطلب، پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے اور دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑ جائیں گے اور پہاڑ ایسے ہونگے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون، زمین سے جب پہاڑ جیسی مضبوط چیزیں ختم ہوجائیں گی ، تو مکانات ، درخت اور اسی طرح کی دیگر چیزیں کس طرح وجود برقرار رکھ سکیں گی ؟ اسی لئے آگے فرمایا و زمین کو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا ۔  یعنی اولین و آخرین، چھوٹے بڑے، کافر و مومن سب کو جمع کریں گے، کوئی زمین کی تہ میں پڑا نہ رہ جائے گا اور نہ قبر سے نکل کر کسی جگہ چھپ سکے گا۔

آیت ٤٨ (وَعُرِضُوْا عَلٰي رَبِّكَ صَفًّا ۭ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۢ)- یہاں ” پہلی مرتبہ “ پیدا کرنے سے مراد عالم ارواح میں انسانی ارواح کی تخلیق ہے جبکہ اس زمین پر جسم اور روح کے ملاپ سے کی جانے والی انسانی تخلیق دراصل تخلیق ثانی ہے۔ فرض کریں اس دنیا کی عمر پندرہ ہزار برس ہے تو ان پندرہ ہزار برسوں میں وہ تمام انسان اس دنیا میں آ چکے ہیں جن کی ارواح اللہ تعالیٰ نے پیدا کی تھیں۔ ان تمام انسانوں کو قیامت کے دن پھر سے اکٹھا کرلیا جائے گا۔ چناچہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام انسان جیسے عالم ارواح میں بیک وقت ایک جگہ اکٹھے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن بھی میدان حشر میں سب کے سب بیک وقت موجود ہوں گے۔- (بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا)- یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن کے الفاظ میں (اَلَّذِین لَاْ یَرْجُون لِقَاءَنَا) (وہ لوگ جنہیں ہماری ملاقات کی امید نہیں) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ایسے لوگ جب اللہ کے حضور پیش ہوں گے تو انہیں ان کا وعدۂ الست (اَلَسْتُ بِرَبِّکُم) ( الاعراف : ١٧٢) بھی یاد دلایا جائے گا کہ تم لوگوں نے مجھے اپنا رب تسلیم کیا تھا پھر تم دنیا کی زندگی میں اس حقیقت کو بالکل ہی بھول گئے کہ تم نے واپس ہمارے پاس بھی آنا ہے۔ تمہیں گمان تک نہیں تھا کہ ہم تمہارے لیے اپنے سامنے پیشی کا کوئی وقت مقرر کریں گے

ننگے بدن حشر :۔ جس طرح پہلی بار اکیلے پیدا ہوئے تھے صحیح وسالم پیدا ہوئے تھے بالکل برہنہ پیدا ہوئے اسی طرح ان کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا چناچہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن بن ختنہ اکٹھے کیے جائیں گے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ اس طرح تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے آپ نے فرمایا : وہ وقت اتنا سخت ہوگا کہ ان باتوں کی کسی کو ہوش ہی نہ ہوگی (بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف الحشر)- اس وقت آخرت کے منکروں سے یہ کہا جائے گا کہ جس بات کا تم انکار کرتے رہے تھے۔ کیا اب وہ بات حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگئی ؟

No comments:

Post a Comment