Tuesday, September 15, 2026

انسان کا مادہ پرستانہ نظریہ حیات

  یعنی جب کسی کو عزت و دولت کی فروانی عطا فرماتا ہے تو وہ اپنی بابت اس غلط فہمی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اللہ اس پر بہت مہربان ہے، حالانکہ فروانی امتحان اور آزمائش کے طور پر ہوتی ہے۔

 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں ۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے تو میری توہین کر ڈالی ہے۔ گویا اس کی نظروں میں عزت اور ذلت کا معیار صرف مال و دولت کی کمی بیشی ہے۔ مال و دولت زیادہ ہو تو ایسا آدمی معزز ہے اور اگر تنگ دست ہو تو وہ ذلیل ہے۔

اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے ۔ یہ چیز ملے تو پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے عزت دار بنا دیا ، اور یہ نہ ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کر دیا ۔ گویا عزت اور ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے ۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے ۔ دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے ۔ مفلس اور تنگ حال بنایا ہے تو اس میں بھی اس کا امتحان ہے کہ صبر اور قناعت کے ساتھ راضی برضا رہتا ہے اور جائز حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے ، یا اخلاق و دیانت کی ہر حد کو پھاند جانے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور اپنے خدا کو کوسنے لگتا ہے ۔

No comments:

Post a Comment