Tuesday, September 15, 2026

قیامت کے ہولناک حالات

 آیت ٢١ کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا ۔ ” ہرگز نہیں جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا۔ “- اس آیت کا یہ ترجمہ شاہ ولی اللہ - کے فرزند ارجمند شاہ عبدالقادر - کے ترجمہ کے مطابق ہے ‘ جبکہ ان کے بھائی شاہ رفیع الدین - نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ جب زمین کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

آیت ٢٢ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ۔ ” اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا جب کہ فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے۔ “- سورة الحاقہ میں قیامت کے دن کا ایک منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے : وَالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَآئِہَاط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ ۔ ” اور فرشتے ہوں گے اس کے کناروں پر ‘ اور اس دن آپ کے ربّ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے آٹھ فرشتے “۔ سورة الرحمن میں اس دن کے آسمان کی کیفیت کا ذکر یوں آیا ہے : فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ ۔ ” پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔ “- قرآن مجید میں قیامت کے دن سے متعلق جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ میدانِ حشر اسی زمین پر قائم ہوگا ۔ زمین کو کھینچ کر چپٹا وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ ۔ (الانشقاق) اور کوٹ کوٹ کر ایسے ہموار کردیا جائے گا کہ اس کے تمام نشیب و فراز ختم ہوجائیں گے لَا تَرٰی فِیْھَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا ۔ (طٰہٰ ) ۔ پہاڑوں کو روئی کے گالوں کی طرح اڑا دیا جائے گا۔ پھر زمین پر اللہ تعالیٰ کا نزول اجلال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص تجلی کے ساتھ آٹھ فرشتے نازل ہوں گے۔ دوسرے فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت لگے گی ‘ حساب کتاب ہوگا اور یوں قصہ زمین برسرزمین ہی طے ہوگا۔ گویا جس زمین پر انسانون نے اپنے اچھے برے اعمال کا ارتکاب و اکتساب کیا ہے ‘ اسی زمین پر ان کا حساب ہوگا۔

آیت ٢٣ وَجِایْٓئَ یَوْمَئِذٍم بِجَہَنَّمَ لا ” اور لے آئی جائے گی اس روز جہنم بھی “- جہنم کا ظہور بھی شاید زمین کے اندر سے ہی ہوگا۔ یعنی جب زمین کو کھینچ کر چپٹا کیا جائے گا تو اس کے اندر کا کھولتا ہوا لاوا باہر نکل آئے گا ‘ جو جہنم کا سماں پیدا کر دے گا۔ (واللہ اعلم )- یَوْمَئِذٍ یَّـتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی ۔ ” اس دن انسان کو سمجھ آئے گی ‘ لیکن اب سمجھنے کا کیا فائدہ “- شاہ عبدالقادر (رح) صاحب نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ” اس دن انسان چیتے گا “ یعنی اس دن انسان کو بہت کچھ یاد آجائے گا کہ وہ دنیا سے اپنے ساتھ کیا لے کر آیا تھا اور اسے نصیحت بھی حاصل ہوجائے گی۔ لیکن اس وقت کی نصیحت سے اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ظاہر ہے فائدہ تو تب ہوتا اگر اس نے دنیا میں نصیحت پکڑی ہوتی۔

آیت ٢٤ یَـقُوْلُ یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ ” وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا “- یہاں لفظ حَیَاتِیْ (میری زندگی) خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ یعنی اس وقت انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ میری اصل زندگی تو یہ ہے جواَب شروع ہوئی ہے۔ میں خواہ مخواہ دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا رہا جو اس اصل زندگی کی تمہید تھی۔ - دراصل انسانی زندگی عالم ارواح سے شروع ہوتی ہے اور دنیا سے ہوتی ہوئی ابد الاباد تک جاتی ہے۔ دنیا کے ماہ و سال اور شب و روز کی گنتی سے زندگی کے اس طویل سفر کا حساب ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس فلسفے کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎- تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ - جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی - چنانچہ انسان کو اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس کی دنیوی زندگی اس کی جاودانی زندگی کے تسلسل کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے امتحان کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس وقفہ امتحان کے اختتام کی علامت کے طور پر اس نے موت کو تخلیق فرمایا ہے ‘ تاکہ ہر انسان کے اعمال کی جانچ کی جاسکے : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاط (الملک : ٢) ” اس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ “

آیت ٢٦ وَّلَا یُوْثِقُ وَثَاقَہٗٓ اَحَدٌ ۔ ” اور اس کا سا باندھنا کوئی اور نہیں باندھ سکتا۔ “- اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے، دوسرے کسی کو اس کے سامنے رائے یادم زنی نہیں ہوگا حتی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہیں کرسکے گا ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چہ جائیکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو، یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بلکل مختلف ہوگا جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔

No comments:

Post a Comment