Wednesday, August 26, 2026

اللہ پر ایمان نہی لاتے

فلا اقسم بالشفق، اس آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کی قسم کے ساتھ موکد کر کے انسان کو پھر اس چیز کی طرف متوجہ کیا ہے جس کا کچھ ذکر پہلے انک کادح الی ربک میں آ چکا ہے۔ یہ چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اگر غور کرو تو اس مضمون کی شاہد ہیں جو جواب قسم میں آنیوالا ہے یعنی انسان کو ایک حال پر قرار نہیں اس کے حالات اور درجات ہر وقت بدلتے رہتے ہیں۔ پہلی چیز شفق ہے یعنی وہ سرخی جو آفتاب غروب ہونے کے بعد افق مغرب میں ہوتی ہے یہ رات کی ابتدا ہے جو انسانی احوال میں ایک بڑے انقلاب کا مقدمہ ہے کہ روشنی جا رہی ہے اور تاریکی کا سیلاب آ رہا ہے، اس کے بعد خود رات کی قسم ہے جو اس انقلاب کی تکمیل کرتی ہے، اس کے بعد ان تمام چیزوں کی قسم ہے جن کو رات کی تاریکی اپنے اندر جمع کرلیتی ہے۔ وسق کے اصل معنے جمع کرلینے کے ہیں، اس کے عام معنے مراد لئے جائیں تو اس میں تمام دنیا کی کائنات داخل ہیں جو رات کی تاریکی میں چھپ جاتی ہیں اس میں حیوانات، نباتات، جمادات، پہاڑ اور دریا سبھی شامل ہیں اور جمع کرلینے کی مناسبت سے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ چیزیں جو عادة دن کی روشنی میں منتشر پھیلی ہوئی رہتی ہیں۔ رات کے وقت وہ سب سمٹ کر اپنے پانے ٹھکانوں میں جمع ہوجاتی ہیں، انسان اپنے گھر میں، حیوانات اپنے اپنے گھروں اور گھونسلوں میں جمع ہوجاتے ہیں، کاروبار میں پھیلے ہوئے سامانوں کو سمیٹ کر یکجا کردیا جاتا ہے، یہ ایک عظیم انقلاب خود انسان اور اس کے متعلقات میں ہے۔ چوتھی چیز جس کی قسم کھائی گئی وہ القمر اذا اتسق ہے یہ بھی وسق سے مشتق ہے جس کے معنے جمع کرلینے کے ہیں قمر کے اتساق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو جمع کرے اور یہ چودھویں رات میں ہوتا ہے جبکہ چاند بالکل مکمل ہوتا ہے۔ اذا اتسق کا لفظ چاند کے مختلف اطوار اور حالات کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ایک نہایت خفیف نحیف قوس کی شکل میں رہتا ہے پھر اس کی روشنی روز کچھ ترقی کرتی ہے یہاں تک کہ بدر کامل ہوجاتا ہے۔ مسلسل اور پیہم انقلابات احوال پر شہادت دینے والی چار چیزوں کی قسم کھا کر حق تعالیٰ نے فرمایا تترکبن طبقاً عن طبق جو چیزیں تہ برتہ ہوتی ہیں اس کی ایک تہ کو طبق یا طبقہ کہتے ہیں جمع طبقات آتی ہے لترکبن، رکوب بمعنے سوار ہونے سے مشتق ہے معنے یہ ہیں کہ اے بنی نوع انسان تم ہمیشہ ایک طبقہ سے دوسرے طبقہ پر سوار ہوتے اور چڑھتے چلے جاؤ گے۔ یعنی انسان اپنی تخلیق کے ابتدا سے انتہا تک کسی وقت ایک حال پر نہیں رہتا بلکہ اس کے وجود پر تدریجی انقلابات آتے رہتے ہیں۔- انسانی وجود میں بیشمار انقلابات اور دائمی سفر اور اس کی آخری منزل :۔ نطقہ سے منجمد خون بنا پھر اس سے ایک مضغہ گوشت بنا پھر اس میں ہڈیاں پیدا ہوئیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا اور اعضاء کی تکمیل ہوئی پھر اس میں روح لا کر ڈالی گئی اور وہ ایک زندہ انسان بنا جس کی غذا بطن مادر کے اندر رحم کا گندہ خون تھا، نو مہینے کے بعد اللہ نے اس کے دنیا میں آنے کا راستہ آسان کردیا اور گندی غذا کی جگہ ماں کا دودھ ملنے لگا۔ دنیا کی وسیع فضا اور ہوا ،دیکھی بڑھنے اور پھیلنے پھولنے لگا، دو برس کے اندر چلنے پھرنے اور بولنے کی قوت بھی حرکت میں آئی ، ماں کا دودھ چھوٹ کر اس سے زیادہ لذیذ اور طرح طرح کی غذائی ملیں، کھیل کود اور لہو و لعب اس کے دن رات کا مشغلہ بنا۔ کچھ ہوش اور شعور بڑھا تو تعلیم و تربیت کے شکنجے میں کسا گیا، جوان ہوا تو پچھلے سب کام متروک ہو کر جوانی کی خواہشات نے ان کی جگہ لے لی اور ایک نیا عالم شروع ہوا۔ نکاح شادی ، اولاد اور خانہ داری کے مشغل دن رات کا مشغلہ بن گئے آخر یہ دور بھی ختم ہونے لگا، قویٰ میں اضمحلال اور ضعیف پیدا ہوا بیماریاں آئے دن رہنے لگیں، بڑھاپا آ گیا اوراس جہان کی آخری منزل یعنی قبر تک پہنچنے کے سامان ہونے لگے۔ یہ سب چیزیں تو سب کی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہیں۔ کسی کو مجال انکار نہیں مگر حقیقت سے ناآشنا انسان سمجھتا ہے کہ یہ موت اور قبر اس کی آخری منزل ہے آگے کچھ نہیں، اللہ تعالیٰ جو خالق کائنات اور علیم وخبیر ہے اس نے آگے آنیوالے مراحل کو اپنے انبیاء کے ذریعہ غافل انسان تک پہنچایا کہ قبر تیری آخری منزل نہیں بلکہ یہ صرف ایک انتظار گاہ (ویٹنگ روم) ہے اور آگے ایک بڑا جہان آنے والا ہے اور اس میں ایک بڑے امتحان کے بعد انسان کی آخری منزل مقرر ہوجائے گی جو راحت و آرام کی ہوگی یا پھر دائمی عذاب و مصیبت کی اور اس آخری منزل پر ہی انسان اپنے حقیقی مستقر پر پہنچ کر انقلابات کے چکر سننے نکلے گا قرآن کریم نے ان الی ربک الرجعی اور الی ربک المنتھی میں یہی مضمون بیان فرما کر غفلت شعار انسان کو حقیت اور اس کی آخری منزل سے آگاہ اور اس پر متنبہ کیا کہ عمر دنیا کے تمام حالات اور انقلابات آخری منزل تک جانے کا سفر اور اس کے مراحل ہیں اور انسان چلتے پھرتے سوتے جاگتے کھڑے بیٹھے ہر حال میں اس سفر کی منزلیں طے کر رہا ہے اور بالاخر اپنے رب کے پاس پہنچتا ہے اور عمر بھر کے اعمال کا حساب دے کر آخری منزل میں قرار پاتا ہے جہاں یا راحت ہی راحت اور غیر منقطع آرام ہی آرام ہے یا پھر معاذ اللہ عذاب ہی عذاب اور غیر منقطع مصائب ہیں، تو عقلمند انسان کا کام یہ ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو ایک مسافر سمجھے اور اپنے وطن اصلی کے لئے سامان تیار کرنے اور بھیجنے کی فکر ہی کو دنیا کا سب سے بڑا مقصد بنائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کن فی الدنیا کانک غریب آؤ عابر سبیل، یعنی دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر چند روز کے لئے کہیں ٹھہر گیا ہو کسی رہگذر میں چلتے چلتے کچھ دیر آرام کے لئے رک گیا ہو۔ طبقا عن طبق کی تفسیر جو اوپر بیان کی گئی ہے ابو نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی مضمون کی روایت کی ہے یہ طویل حدیث اسجگہ قرطبی نے بحوالہ ابی نعیم اور ابن کثیر نے بحوالہ ابن ابی حاتم مفصل نقل کی ہے۔ ان آیات میں غافل انسان کو اس کی تخلیق اور عمر دنیا میں اس کو پیش آنے والے حالات و انقلابات سامنے کر کے یہ ہدایت دی کہ غافل اب بھی وقت سے کہ اپنے انجام پر غور اور آخرت کی کفر کر، مگر ان تمام روشن ہدایات کے باوجود بہت سے لوگ اپنی غفلت سے باز نہیں آتے اس لئے آخر میں ارشاد فرمایا فما لھم لایومنون یعنی ان غافل و جاہل انسانوں کو کیا ہوگیا کہ یہ سب کچھ سننے اور جاننے کے بعد بھی اللہ پر ایمان نہی لاتے

آسان حساب

 ۔(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ…: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ کرید کرید کر اصلی حساب نہیں ہوگا، فقط اعمال نامہ پیشہ ہو گا اور غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لیس احد یحاسب الا ھلک قالت قلت یا رسول اللہ جعلنی اللہ فذائک الیس یقول اللہ عزو جل :(فاما من اوتی کتبہ بیمینہ، فسوق یحاسب حساباً یسیراً ) (الانشقاق : ٨، ٨) قال ذالک العرض یعرضون، ومن نوقش الحساب ھلک) (بخاری، التفسیر، باب :(فسوق یحاسب حسابا یسیرا): ٣٩٣٩)” جس کسی کا بھی حساب لیا گیا وہ ہلاک ہوگیا ۔ “ عائشہ (رض) نے عرض کی :” یا رسول اللہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتے کہ جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان ہوگا ؟ “ آپ نے فرمایا :” یہ صرف پیشی ہے (جس میں صرف اس کے اعمال) پیش کئے جائیں گے اور جس سے حساب میں پڑتال کی گئی وہ ہلاک ہو یا۔ “- جن بندوں پر اللہ کی نظر عنایت ہوگی ان کے آسان حساب کی ایک صورت وہ ہوگی جو ابن عمر (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(یدنواحدکم من ربہ حتی یضع کنفہ علیہ فیقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم و یقول عملت کذا و کذا ؟ فیقول نعم، فیقررہ ثم یقول انی سترت علیک فی الدنیا، فانا اغفرھا لک الیوم) (بخاری، الادب، باب ستر المومن علی نفسہ : ٦٠٨)” تم میں سے ایک (بندہ) اپنے رب کے قریب ہوگا، یہاں تک کہ وہ اپنا دامن اس پر رکھے گا (کہ کسی اور کو خبر نہ ہو ) ، پھر فرمائے گا :” تو نے یہ کام کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ اور فرمائے گا :” تو نے یہ یہ کام (بھی ) کئے ؟ “ وہ کہے گا :” ہاں “ پس اللہ تعالیٰ اس سے اقرار کروا لے گا، پھر فرمائے گا :” میں نے دنیا میں تجھ پر پردہ ڈالا، سو آج میں تمہیں وہ گناہ معاف کرتا ہوں ۔ “ آسان حساب کی ایک صورت یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا تھوڑی نیکی کا ثواب بہت زیادہ عطا فرما دے گا جیسا کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) عنہما نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی امت کے ایک آدمی کے گناہوں کے حد نگاہ تک پھیلے ہوئے نانوے (٩٩) دفتر کاغذ کے ایک پرزے کے مقابلے میں ہلکے ہوجائیں گے جس پر ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمداً عبدہ و رسولہ “ لکھا ہوگا۔ (دیکھیے ترمذی، الایمان، باب ما جاء فیمن یموت وھو یشھد ان لا الہ الا اللہ : ٢٦٣٩ و صحیحہ الالبانی) غرض اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے گا حساب آسان کر دے گا، مگر شرط یہے کہ آدمی ہر طرح کے شرک ظاہری اور شرک باطنی یعنی ریا سے پاک ہو، پھر اگر گناہ گار توبہ کے بغیر بھی مرگیا تو اللہ کی ذات سے رحمت اور آسانی حساب کی توقع ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ان اللہ لایغفران یشرک بہ وغفر مادون ذلک لمن یشآئ) (النسائ : ٣٨) بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔ “ مشرک کے لئے معافی نہیں، دوسروں کی مغفرت اللہ کی مشیت پر ہے۔ اس لئے نہ اس کے غضب سے بےخوف ہونا چاہیے اور نہ اس کی رحمت سے مایوس ہونا چاہیے



رب کی طرف

 آیت ٦ یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ ۔ ” اے انسان تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے۔ “- یہ دنیا انسان کے لیے دارالمِحن یعنی مشقتوں کا گھر ہے۔ انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو سورة البلد میں یوں بیان فرمایا گیا : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ کہ انسان تو پیدا ہی مشقت میں کیا گیا ہے۔ گویا مشقتیں برداشت کرنا ‘ دکھ اٹھانا اور سختیاں جھیلنا انسان کا مقدر ہے۔ اس سے کسی انسان کو رستگاری نہیں۔ مزدور ہے تو وہ صبح سے شام تک جسمانی سختیاں سہہ رہا ہے۔ کارخانہ دار ہے تو انتظامی گتھیوں کو سلجھانے میں جگر خون کر رہا ہے۔ اگر کوئی کسی دفتر کی کرسی پر بیٹھا ہے تو ذہنی مشقت کی چکی ّمیں ِپس رہا ہے۔ پھر اپنی اور اہل و عیال کی بیماریاں ‘ معاشی مشکلات ‘ معاشرتی الجھنیں ‘ مال و جان کی حفاظت کی فکر وغیرہ کی صورت میں ذہنی و نفسیاتی پریشانیاں الگ ہیں جو ہر انسان کے گلے کا ہار بنی ہوئی ہیں۔ دوسروں سے مسابقت اور مقابلے کا غم اس کے علاوہ ہے جو ہر انسان نے اپنے دل و دماغ میں کسی نہ کسی سطح پر ضرور پال رکھا ہے۔ پیدل چلنے والا سائیکل سوار کو رشک بھری نظروں سے دیکھتا ہے ‘ سائیکل سوار کار والے کے حسد میں مبتلا ہے۔ چھوٹی کاروالا بڑی کار والے سے جلن کا شکار ہے۔ غرض مشقت ‘ تکلیف یا غم کی نوعیت تو مختلف ہوسکتی ہے مگر کوئی انسان ایسا نہیں جو کسی نہ کسی دکھ ‘ پریشانی یا مشقت میں مبتلا نہ ہو۔ ان مشقتوں ‘ تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا انسان کو روز اوّل سے ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا۔ جیتے جی کوئی انسان اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتا۔ مرزا غالب ؔنے اس حوالے سے بڑے پتے کی بات کہی ہے : ؎- قید ِحیات و بند ِغم اصل میں دونوں ایک ہیں - موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں - ان مشقتوں اور مصیبتوں میں گھری انسانی زندگی کی یہ سختیاں اور پریشانیاں اپنی جگہ ‘ لیکن انسان کا اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہے۔ اور وہ مسئلہ ہے کہ : ؎- اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے - مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ؟- (ابراہیم ذوق) - انسان کے اخروی احتساب کا تصور ذہن میں لائیں اور پھر موازنہ کریں کہ باقی جانداروں کے مقابلے میں ” انسان “ کس قدر مشکل میں ہے۔ ایک بار بردار جانور کی زندگی کا معمول چاہے جتنا بھی مشکل ہو لیکن اس کی مشقت اور تکلیف اس کی زندگی کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایک بیل جب ہل یا رہٹ چلاتے چلاتے مرجاتا ہے تو اس مشقت سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتا ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایک انسان ہے جو کو فت پر کو فت برداشت کرتا اور تکلیف پر تکلیف جھیلتا جب اس دنیا سے جائے گا تو اسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی دنیوی زندگی کے ایک ایک پل کا حساب دینا ہوگا۔ اس ضمن میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : - (لَا تَزُوْلُ قَدَمُ ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ عِنْدِ رَبِّہٖ حَتّٰی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ : عَنْ عُمُرِہٖ فِیْمَا اَفْنَاہُ ، وَعَنْ شَبَابِہٖ فِیْمَا اَبْلَاہُ ، وَمَالِہٖ مِنْ اَیْنَ اکْتَسَبَہٗ وَفِیْمَ اَنَفَقَہٗ ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیْمَا عَلِمَ ) (١)- ” ابن آدم کے پائوں قیامت کے روز اپنے رب کے حضور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کا حساب نہ لے لیا جائے : اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں فنا کی ؟ اس کی جوانی (کی قوتوں ‘ صلاحیتوں اور امنگوں ) کے دور کے بارے میں کہ کیسے گزارا ؟ مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ (حلال ذرائع سے کمایا یا حرام طریقے سے اور اللوں ّتللوں میں خرچ کیا یا ادائے حقوق کے لیے ؟ ) اور جو علم حاصل ہوا تھا اس پر کتنا عمل کیا ؟ “- یعنی دنیا میں باربرداری بھی کرو ‘ جسمانی ‘ ذہنی اور نفسیاتی اذیتیں بھی برداشت کرو۔ مال وجان اور اولاد سے متعلق رنگا رنگ صدمے جھیلتے جھیلتے زندگی بھر کانٹوں پر بھی لوٹتے رہو اور پھر مرنے کے بعد ایک ایسی ہستی کے سامنے کھڑے ہو کر پل پل کا حساب بھی دو جس سے تمہارے قلوب و اذہان کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والے جذبات و خیالات بھی پوشیدہ نہیں ۔ یہ ہے ” انسان “ کی اصل ٹریجڈی - یہ مرحلہ ایک انسان کے لیے ایسا مشکل ہے کہ اسے یاد کر کے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اکثر رویا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ کاش میں ایک چڑیا ہوتا - دیکھا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درج بالا فرمان میں مذکور سوالات میں سے آخری سوال سب سے مشکل ہے۔ جس کسی نے دین اور قرآن کا علم جس قدر زیادہ سیکھا اس کے لیے اس کا حساب دینا اسی قدر مشکل ہوگا۔ اگر کسی انسان تک قرآن کی یہ دعوت پہنچ ہی نہیں پائی تو ممکن ہے کہ اس کی طرف سے کوئی عذر بھی قبول ہوجائے۔ (ایسی صورت میں اس کوتاہی کا کچھ نہ کچھ بوجھ ان لوگوں پر بھی ضرور پڑے گا جنہوں نے اسے دعوت پہنچانے میں تساہل برتا ) لیکن جن لوگوں تک قرآن کی دعوت پہنچ گئی اور انہوں نے اپنی استعداد کے مطابق قرآن کے پیغام کو سمجھ بھی لیا تو ظاہر ہے ان کے لیے اس آخری سوال کا جواب دینا بہت مشکل ہوگا۔

ہمیشہ یاد رکھو

صبر

استغفار

کردار