Thursday, July 30, 2026
استغفر اللہ
ابوموسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل رات میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تا کہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن میں اپنا ہاتھ پسارتا ہے، تا کہ رات کا گنہگار توبہ کرلے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جا ئے۔" [صحيح] - [رواه مسلم] -
[صحيح مسلم - 2759] -●◄ شرح:
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی بندے کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جب بندہ دن میں گناہ کرنے کے بعد رات میں توبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اسی طرح جب رات میں گناہ کرنے کے بعد دن میں توبہ کرتا ہے، تو اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اللہ اپنا ہاتھ توبہ کی خوشی میں اور اسے قبول کرنے کے لیے پھیلاتا ہے۔ توبہ کا دروازہ اس وقت تک کھلا رہے گا، جب تک دنیا کے ختم ہو جانے کی نشانی کے طور پر سورج مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہو جائے گا، تو توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔
●◄ حدیث کے بعض فوائد:
توبہ قبول کرنے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک اس کا دروازہ کھلا رہے۔ اس کا دروازہ مغرب سے سورج طلوع ہو جانے کے بعد بند ہو جائے گا۔ نیز اس کا دروزاہ (فرد واحد کے لئے) حلقوم تک روح پہنچنے پر بند کردیا جاتا ہے لہذا انسان کو اس حالت سے پہلے توبہ کر لینی چاہیے۔
گناہ کی وجہ سے مایوسی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اللہ کا عفو و درگزر اور اس کی رحمت بڑی وسیع ہے اور توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
●◄ توبہ کی شرطیں :
1- گناہ سے باز آ جانا۔
2۔ گناہ کے ارتکاب پر نادم و شرمندہ ہونا۔
3- اس بات کا عزم کرنا کہ دوبارہ وہ گناہ نہيں کرے گا۔
مذکورہ تین شرطیں اس وقت ہیں ، جب گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو۔ لیکن اگر گناہ کا تعلق بندوں کے حقوق میں سے کسی حق سے ہو، تو توبہ کے صحیح ہونے کے لیے اس حق کو صاحب حق کو لوٹانا یا پھر صاحب حق کی جانب سے معاف کر دیا جانا ضروری ہے۔
Saturday, July 25, 2026
میدان حشر
فرمایا صرف وہی اس دن بات کر سکے گا جسے وہ رحمٰن اجازت دے جیسے فرمایا آیت ( يَوْمَ يَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّسَعِيْدٌ ١٠٥) 11-ھود:105 ) یعنی جس دن وہ وقت آئے گا کوئی نفس بغیر اس کی اجازت کے کلام بھی نہیں کر سکے گا صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس دن سوائے رسولوں کے کوئی بات نہ کر سکے گا ، پھر فرمایا کہ اس کی بات بھی ٹھیک ٹھاک ہو ، سب سے زیادہ حق بات لا الہ الا اللہ ہے ، پھر فرمایا کہ یہ دن حق ہے یقیناً آنے والا ہے ، جو چاہے اپنے رب کے پاس اپنے لوٹنے کی جگہ اور وہ راستہ بنا لے جس پر چل کر وہ اس کے پاس سیدھا جا پہنچے ، ہم نے تمہیں بالکل قریب آئی ہوئی آفت سے آگاہ کر دیا ہے ، آنے والی چیز تو آ گئی ہوئی سمجھنی چاہئے ، اس دن نئے پرانے چھوٹے بڑے اچھے برے کل اعمال انسان کے سامنے ہوں گے جیسے فرمایا آیت ( وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا ۗ) سورة الكهف:49 جو کیا اسے سامنے پا لیں گے اور جگہ ہے آیت ( يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۢ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ 13 ) 75- القيامة:13 ) ہر انسان کو اس کے اگلے پچھلے اعمال سے متنبہ کیا جائے گا ، اس دن کافر آرزو کرے گا کاش کہ وہ مٹی ہوتا پیدا ہی نہ کیا جاتا وجود میں ہی نہ آتا ، اللہ کے عذاب کو آنکھ سے دیکھ لے گا اپنی بدکاریاں سامنے ہوں گی جو پاک فرشتوں کے منصب ہاتھوں کی لکھی ہوئی ہیں ، پس ایک معنی تو یہ ہوئے کہ دنیا میں ہی مٹی ہونے کی یعنی پیدا نہ ہونے کی آرزو کرے گا ، دوسرے معنی یہ ہیں کہ جب جانوروں کا فیصلہ ہو گا اور ان کے قصاص دلوائے جائیں گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو اگر سینگ والی بکری نے مارا ہو گا تو اس سے بھی بدلہ دلوایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہ مٹی ہو جاؤ چنانچہ وہ مٹی ہو جائیں گے ، اس وقت یہ کافر انسان بھی کہے گا کہ ہائے کاش میں بھی حیوان ہوتا اور اب مٹی بن جاتا حضور کی لمبی حدیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے اور حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی یہی مروی ہے
میدان حشر میں دربار الہی کے رعب کا یہ عالم ہو گا کہ اہل زمین ہوں یا اہل آسمان ، کسی کی بھی یہ مجال نہ ہو گی کہ از خود اللہ تعالی کے حضور زبان کھول سکے ، یا عدالت کے کام میں مداخلت کر سکے ۔

.jpg)

.jpg)
.jpg)

